دروازہ کھلا اور احمد اندر آیا۔ اس کی آنکھوں میں وہ ظالمانہ چمک تھی جو سارہ کو ہمیشہ کانپا دیتی تھی۔ وہ اس کا شوہر تھا، مگر آج رات وہ کوئی اور بننا چاہتا تھا۔
"آج تم میری قیدی ہو، سمجھی؟" اس نے گہری، دھمکی بھری آواز میں کہا، جبکہ دروازہ بند کر کے چابی جیب میں ڈال لی۔
سارہ کا دل زور سے دھڑکا۔ یہ ان کا رول پلے تھا، مگر احمد اسے اتنا حقیقی بنا دیتا تھا کہ اس کی سانسوں میں خوف اور جوش دونوں مل جاتے۔
"نہیں... مجھے چھوڑ دو... میں تمہاری بیوی ہوں، یہ غلط ہے!" سارہ نے ہلکی سی آواز میں کہا، آنکھیں جھکا کر، جیسے واقعی ڈر رہی ہو۔
احمد مسکرایا، ایک ظالم مسکراہٹ۔ وہ تیزی سے قریب آیا، اس کے بالوں میں ہاتھ ڈال کر سر پیچھے کھینچا۔
"بیوی؟ آج تو تم میری غلام ہو۔ جو میں کہوں گا، کرو گی۔"
اس نے سارہ کو زور سے بستر پر دھکیل دیا۔ سارہ کی سانس پھول گئی۔ احمد اس کے اوپر چڑھ آیا، اس کے ہاتھوں کو سر کے اوپر دبا کر رکھا۔ اس کے ہونٹ سارہ کی گردن پر پڑے، کاٹتے ہوئے، چوستے ہوئے۔ سارہ کے منہ سے ایک آہ نکل گئی۔
"نہیں... احمد... رہنے دو مجھے..." وہ بڑبڑائی، مگر اس کا جسم تو پہلے ہی اس کے ہاتھوں کے سامنے پگھل رہا تھا۔
احمد نے اس کا نائٹ سوٹ اوپر اٹھایا، اس کی نرم، گرم رانوں پر ہاتھ پھیرا۔ "دیکھ، تیرا جسم تو مجھے چاہتا ہے۔" اس نے زور سے اس کی ٹانگیں الگ کیں۔ سارہ کی آنکھیں نم ہو گئیں، شرم سے، جوش سے۔
وہ اس کے اندر داخل ہوا، ایک ہی زور دار جھٹکے میں۔ سارہ چیخ اٹھی، مگر احمد نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔
"چپ! اب تو میری مرضی چلے گی۔"
وہ تیز، بے رحم دھکے لگانے لگا۔ ہر دھکے کے ساتھ سارہ کا جسم اٹھتا، گرتا۔ اس کی آوازیں اب روکنے والی نہ رہیں۔ "آہ... احمد... مجھے... ہاں..."
احمد نے اس کے کان میں فुसفسایا، "میرا غلام بن جا، سارہ۔ آج رات میں تجھے بار بار لوں گا، جب تک تو ہار نہ جائے۔"
سارہ کا جسم تن کر گیا۔ اس کی انگلیاں احمد کی پیٹھ میں گڑ گئیں۔ رول پلے اب حقیقت بن چکا تھا۔ وہ دونوں ایک دوسرے میں گم تھے۔ احمد کی ظالمانہ طاقت اور سارہ کی نرم تسلیم... دونوں مل کر ایک ایسی آگ پیدا کر رہے تھے جو کمرے کی ہوا کو بھی گرم کر رہی تھی۔
رات ابھی بہت لمبی تھی...
Shared Real-Time App & Web Session Views
0 Ratings
Logged-in readers can rate this novel.
Sign In to Rate