گھر میں اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ صرف بات روم کی ہلکی روشنی کمرے میں آ رہی تھی۔ سارہ بستر پر گھٹنوں کے بل جھکی ہوئی تھی، ہاتھ پیچھے باندھے ہوئے۔ احمد اس کے بالوں کو مضبوطی سے پکڑے کھڑا تھا۔
"آج تم میری ملکیت ہو، سمجھی؟ کوئی بیوی والا ڈرامہ نہیں۔" اس کی آواز سخت تھی، بغیر کسی نرمش کے۔
سارہ نے کانپتے ہوئے کہا، "نہیں... مجھے چھوڑ دو... میں نہیں کرنا چاہتی۔"
احمد نے زور سے ہنستے ہوئے اس کے سر کو بستر پر دھکا دیا۔ "چپ! اب میری مرضی۔"
اس نے اس کا نائٹ ڈریس ایک ہی جھٹکے میں پھاڑ کر الگ کیا۔ سارہ کی ننگی کمر اور رانوں پر اس کی انگلیاں بے رحمی سے پھریں۔ وہ اس کے پیچھے سے قریب آیا، اس کی ٹانگیں زور سے پھیلا دیں۔
"بس اب رو... جتنا رو سکتی ہو۔"
ایک ہی زور دار دھکے میں وہ اس کے اندر گھس گیا۔ سارہ نے تیز چیخ ماری، مگر احمد نے اس کا منہ تکیے میں دبا دیا۔ وہ تیز، سخت، بے وقوف جیسے دھکے لگانے لگا۔ ہر بار اس کا جسم پورا ہل جاتا۔
"میرا ہے یہ جسم... میرا!" احمد نے غرر کرتے ہوئے کہا اور اس کی کمر پر ایک تھپڑ مارا۔ سارہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، مگر اس کا جسم اس کی ہر حرکت کے ساتھ سٹ جاتا۔
احمد نے اس کے بال دوبارہ پکڑے، اسے پیچھے کھینچا اور تیز رفتاری سے چلتا رہا۔ کوئی بوسہ نہیں، کوئی پیار نہیں۔ صرف قبضہ، صرف طاقت۔
سارہ کی سانس پھول رہی تھی۔ "بس... کر دو... آہhh..." مگر احمد رکتا ہی نہیں تھا۔ وہ اسے الٹا کر کے پھر سے اپنے نیچے کیا، اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھی اور مزید گہرائی میں اترتا چلا گیا۔
"اب تک تو بس شروعات ہے۔ آج رات تمہیں بار بار لوں گا جب تک تم ہلنے کے قابل بھی نہ رہو۔"
وہ مسلسل، بے رحم انداز میں اسے استعمال کرتا رہا۔ کمرے میں صرف جسموں کی ٹکراہٹ اور سارہ کی دبی ہوئی آہیں گونج رہی تھیں۔
Shared Real-Time App & Web Session Views
0 Ratings
Logged-in readers can rate this novel.
Sign In to Rate