وہ جب ہنستی تھی۔۔۔
تو لگتا تھا جیسے بہار نے زمین پر قدم رکھ دیے ہوں۔
اور وہ۔۔۔
ہر بار صرف ایک بہانے سے اس کے پیچھے بھاگتا تھا۔۔۔
تاکہ چند لمحے اور اس کی ہنسی سن سکے۔
"رک جاؤ۔۔۔"
اس نے مسکراتے ہوئے آواز دی۔
وہ پلٹ کر شرارت سے ہنسی۔
"پہلے پکڑ کر تو دکھائیے۔۔۔"
اور پھر دونوں پھولوں سے سجے راستوں پر دوڑ پڑے۔
کسی کو خبر نہ تھی۔۔۔۔
کہ ان معصوم لمحوں کے پیچھے قسمت ایک ایسا امتحان چھپا کر بیٹھی ہے۔۔۔
جو محبت کو ہمیشہ کے لیے بدل دینے والا تھا۔
مگر ابھی۔۔۔
ہوا میں صرف خوشبو تھی۔۔۔
ہنسی تھی۔۔۔
اور دو دل تھے۔۔۔
جو ایک دوسرے میں اپنا سکون ڈھونڈ رہے تھے۔
"دلدارم"
کچھ محبتیں اقرار سے نہیں... ایک مسکراہٹ، ایک دوڑ، اور ایک نظر سے شروع ہوتی ہیں۔
Shared Real-Time App & Web Session Views
0 Ratings
Logged-in readers can rate this novel.
Sign In to Rate