وہ محبت نہیں کرتا تھا۔۔۔
وہ اپنا حق جتاتا تھا۔
اس کی ایک نظر۔۔۔
دل کی ہر دیوار گرا دینے کے لیے کافی تھی۔
لوگ اس کے نام سے ڈرتے تھے۔۔۔
اور وہ۔۔۔
صرف ایک لڑکی کی خاموشی سے ہار جاتا تھا۔
"تم میری ضد ہو۔۔۔"
اس نے اس کے کان کے قریب جھک کر دھیمی آواز میں کہا۔
"اور میری ہر ضد کا انجام ہمیشہ۔۔۔ میرا ہی ہوتا ہے۔"
وہ اس سے نفرت کرنا چاہتی تھی۔۔۔
مگر ہر بار اس کی آنکھوں میں دیکھ کر اپنے ہی دل سے ہار جاتی۔
یہ محبت نرم نہیں تھی۔۔۔
یہ آگ تھی۔۔۔
جو دونوں کو ایک ساتھ جلاتی بھی تھی، اور ایک دوسرے کے بغیر جینے نہیں دیتی تھی۔
"ازلانِ عشق"
کچھ عشق دل نہیں مانگتے۔۔۔ وہ روح، وفا اور پوری زندگی اپنے نام لکھوا لیتے ہیں۔
Shared Real-Time App & Web Session Views
0 Ratings
Logged-in readers can rate this novel.
Sign In to Rate