قید صرف زنجیروں سے نہیں ہوتی...
کبھی کبھی ایک انسان بھی کسی کی پوری دنیا کو اپنا قیدی بنا لیتا ہے۔
وہ اس کی نفرت بھی تھا...
اور اس کی سب سے بڑی کمزوری بھی۔
اس نے اسے اپنی زندگی سے دور کرنا چاہا...
مگر جتنا دور کرتی گئی، اتنا ہی وہ اس کی روح میں اترتا گیا۔
وہ محبت نہیں مانگتا تھا...
وہ اسے اپنا حق سمجھتا تھا۔
اور وہ جانتی تھی...
اگر ایک بار اس کی آنکھوں میں ڈوب گئی، تو واپسی کا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔
یہ عشق آزادی نہیں دیتا...
یہ سانسوں، دھڑکنوں اور روح تک پر اپنا نام لکھ دیتا ہے۔
"اسیرِ عشقم"
کچھ محبتیں دل میں نہیں بستیں... وہ انسان کو اپنی ہی محبت کا قیدی بنا دیتی ہیں۔
Shared Real-Time App & Web Session Views
0 Ratings
Logged-in readers can rate this novel.
Sign In to Rate